گھر کی تعمیر کے لیے استعمال ہونے والی اینٹ

گھر کی تعمیر کے لیے استعمال ہونے والی اینٹ

اینٹ

پاکستان میں گھر کی تعمیر کے دوران سب سے زیادہ استعمال ہونا والا میٹیریل اینٹ ہے ، گارے سے بنائی جانے والی ، سانچہ میں ڈال کر مخصوص قسم کے بھٹوں پر 1000 درجہ حرارت سے اوپر کئی دنوں تک پکائی جاتی ہے ، یہ سب سے آسان اور بہت پرانا طریقہ ہے اینٹیں بنانے کا جو کئی دہائیوں سے اس خطے میں اپنایا جاتا ہے ۔ بھٹے پورے ملک کے کئی حصوں میں چلائے جاتے ہیں ۔ مختلف جگہوں پر بنائے جانے والی اینٹوں کی شکلیں اینٹ بنانے میں استعمال شدہ گارے کے حساب سے مختلف ہوتی ہیں۔ اینٹوں کو بوجھ برداشت کرنے والی اور بوجھ نا برداشت کرنے والی فریم سٹرکچر والی عمارتوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ہمارے علاقے میں استعمال ہونے والی اینٹ کچھ مندرجہ ذیل طول و عرض کی ہوتی ہے :

bricks in lahore

اینٹوں کی درجہ بندی 

خصوصی اینٹ :

یہ سب سے مہنگی اینٹ ہے ، اور اپنی مہنگائی کی وجہ سے شاذ و نادر ہی استعمال ہوتی ہے ، یہ اپنی خصوصیات میں تقریبا کمال ہی ہے، یہ مکمل سائز ، بے داغ اور پوری مکمل ہوتی ہے ، اچھی طرح پکنے سے مکمل مضبوط ہوتی ہے ، اس میں استعمال شدہ گارا سب سے اچھے معیار کا ہوتا ہے ، اسی طرح اس کو تیار کرنے والی لیبر بھی جو اسکا گارا مکس کرنے ، سانچے میں ڈالنے اور بھٹی میں ڈالنے سے پہلے اچھی طرح سکھا کر بھٹی میں ڈالتے ہے۔

اول اینٹ :

سب سے زیادہ استعمال ہونے والی اینٹ اول اینٹ ہے ، یہ خصوصی اینٹ سے سستی ہوتی ہے لیکن اس میں وہ تمام خوبیاں ہوتی ہیں جو مضبوطی اور ایک اچھی تعمیر کے لیے درکار ہوتی ہیں۔ اول اینٹ کی قیمت اور خوبیوں کے حساب سے مزید کئی قسمیں ہوتی ہیں جیسے اول اے اور اول بی وغیرہ ۔ اول اینٹ اچھی طرح سے پکی ہوتی ہے ، شکل اچھی ہوتی ہے لیکن ٹرالی میں کچھ ٹوٹی ہوئی بھی ہوتی ہیں۔

دوم اینٹ :

اس قسم کی اینٹ گھر کی تعمیر کے لیے بلکل بھی تجویز کردہ نہیں ہے ، یہ اینٹ سستی قیمت پر دستیاب ہوتی ہیں اور ان کو دوم کا نام دیا جاتا ہے کیونکہ انکی پکائ پوری نہیں ہوتی جس کی وجہ سے اسکی مضبوطی کم ہوجاتی ہے ۔ بے ڈھنگی شکل اور مختلف رنگوں کی ہونا اس طرح کی اینٹ کی کچھ خصوصیات ہیں،

کھنگر اینٹ :

بھٹی میں کچھ اینٹیں زیادہ جل جاتی ہیں جسکی وجہ سے ان پر ایک پختہ کالا ماس آجاتا ہے ، اینٹ بے ڈھنگی اور بے ترتیبی ہو جاتی ہے  ، ایسی اینٹیں کسی بھی جگہ استعمال نہیں کرنی چاھیے ، کیونکہ انکو لگانے کے لیے زیادہ مسالہ لگانا پڑتا ہے اور ممکن ہے کہ زیادہ جلنے کی وجہ سے اس کو مسالہ پکڑے ہی نا ، دیکھنے میں گندی لگتی ہے اور اس کی وجہ سے پوری دیوار کی شکل ہی بگڑ جاتی ہے ۔

بارشی اینٹ :

اینٹوں کو بھٹی میں ڈالنے سے پہلے ، کچی اور گیلی اینٹوں کو کھلے میدان میں سوکھنے کے لیے رکھ دیا جاتا ہے ، چونکہ ان اینٹوں کو ڈھانپ کر نہیں رکھا جاتا تو بارش کی صورت میں جب یہ بھیگ جاتی ہیں تو ان پر دھبے کی شکل میں پکے داغ لگ جاتے ہیں ، چنانچہ کچھ کیے بغیر انکو بھٹی میں پکنے کے لیے ڈال دیا جاتا ہے۔ ایسی اینٹوں کو بارشی اینٹ کہا جاتا ہے ، یہ اول درجہ کی اینٹ سے قیمت میں سستی ہوتی ہیں اپنے داغ کی وجہ سے ، ایسی اینٹ کا استعمال بلکل محفوظ ہے اگر وہ اچھی طرح پکائی گئی ہوں اور اول درجہ کی اینٹ کے برابر مضبوط بھی ہوں۔

اپنے گھر کی تعمیر کے دوران صرف اول درجہ کی اینٹ خریدیں جس میں وہ تمام خوبیاں ہوں جو اوپر بیان کی گئیں ۔ اینٹ آپ خود بھٹے والے سے بلا واسطہ خرید سکتے ہیں لیکن ایک انجان شخص کے لیے یہ کام مشکل ہو سکتا ہے لہذا ڈیلر یا کسی ایجنٹ سے خریدنا آسان ہوتا ہے ۔ ہر بھٹے اینٹ پر اس کا مخصوص نشان لگا ہوتا ہے جسے مارکہ کہتے ہیں ، اچھی اور سیدھی دیواروں کے لیے ایک ہی نشان والی اینٹوں کا استعمال کریں ، مختلف نشان والی اینٹوں سے گریز کریں کیونکہ مختلف برانڈ کی اینتوں کے سائز مختلف ہونے سے دیواریں کچھیں سی دکھیں گی ۔

عام طور پر اینٹوں کو 5000 کی تعداد میں بھٹے سے سائٹ پر پہنچایا جاتا ہے ، اور یہ بھی ایک عام بات ہے کہ اگر آپ اول درجہ کی اینٹ منگوائیں تو کچھ ان میں سے ایسی بھی نکلیں جن میں اول درجہ کی اینٹ والی خوبیاں نا ہوں ، بہرحال ایسی اینٹوں کی تعداد ٹوٹل کا دس فیصد سے زیادہ نا ہو ۔ کبھی بھی ایجنٹ یا بھٹے کے مالک کو براہراست ایڈوانس ادائیگی نا دیں ، ہمیشہ اپنی آرڈر کردہ اینٹوں کی تعداد اور معیار دیکھنے کے بعد ادائیگی کریں ۔

سائٹ پر اینٹوں کی تعداد چیک کریں

سائٹ پر اتاری گئی اینٹ کی تعداد چیک کرنا بہت ضروری ہے ، ادائیگی کرنے سے پہلے خود ایک بار اینٹوں کی تعداد چیک کریں اور کبھی بھی کسی پر بھروسہ نا کریں ، موقع پر موجود گارڈ یا ٹھیکیدار کو سختی سے کہیں کہ جب تک آپ خود اینٹوں کی تعداد گن نا لیں تب تک انکو استعمال میں نہیں لایا جائےگا ، آج مہنگائی کے دور میں ایک ایک اینٹ قیمتی ہے۔ اینٹوں کے کام میں دھوکہ بازی اور فراڈ ایک معمول ہے اور اس میں اصل مجرم یا تو ایجنیٹ ہوتا ہے یا پھر اینٹ لانے والے جو اینٹوں کوبھٹے سے لادتے اور سائٹ پر اتارتے ہیں ، اینٹوں کو ہمیشہ اپنی ذاتی نگرانی یا پھر کسی بھروسہ مند شخص کی نگرانی میں اتارا جائے ، اور ایک بار جب اتر جائے تو مندرجہ ذیل طریقہ سے گن لیا جائے :

bricks in lahore

اینٹوں کو افقی طور پر A کی جانب گنیں

اینٹوں کو افقی طور پر B کی جانب گنیں

C کی جانب تمام تہوں کو گنیں

A x (Bx2) x C = Total number of bricks

اینٹوں کا معیار چیک کریں :

معیار کا چیک کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا تعداد کا چیک کرنا ، آپ کو وہی چیز ملنی چاھیے جس کے آپ سے پیسے لیے جارہے ہیں ، موقع پر ہی اینٹوں کا معیار چیک کرنے کے کچھ بنیادی طریقے مندرجہ ذیل ہیں :

کھڑکنے کی آواز :

دو سوکھی اینٹوں کو دونوں ہاتھوں میں اس طرح پکڑیں کے دونوں کی 3 انچ والی سائیڈ آپنے سامنے ہو اور دونوں کو آرام سے ایک دوسرے میں ماریں ، اچھی اینٹ کبھی نہیں ٹوٹے گی اور ایک صاف کھڑکنے کی آواز آئےگی۔

طول و عرض چیک کریں :

کچھ اینٹیں اٹھائیں اور انکا سائز چیک کریں ، 90 فیصد اینٹیں ایک سائز کی ہونی چاہئیں ۔

شکل اور رنگ :

اینٹیں ایک شکل میں ہونی چاھیے ، اچھی پکی ہوئی اینٹ کا رنگ لال ہوتا ہے اور دونوں اطراف میں سفیدی مائل ہوتی ہیں جسےڈب والی اینٹ بھی کہتے ہیں ، تاہم اینٹوں کا رنگ بھی اس علاقے پر منحصر ہے جہاں وہ تیار ہوتی ہیں ۔

گرا کر ٹیسٹ :

اینٹ کو افقی طور پر 3 سے 4 فٹ کی بلندی سے گرائیں اور اسے ٹوٹنا نہیں چاھئے ، یہ ٹیسٹ کم از کم 5 اینٹوں پر دھرائیں ۔

ٹوٹنے کا ٹیسٹ :

اینٹ کو دو حصوں میں کریں ، اس میں کوئی خلاء اور سوراخ نا ہو ، یہ ٹیسٹ کم از کم 5 اینٹوں پر دہرائیں ۔

 

 

 

Print Friendly, PDF & Email

About The Author

Mamoon Hanif
Content writer and a blogger. Passionate in research and analysis on various issues. Keen observer of current affairs and politics.

No Comments

Leave a Reply

CLOSE
CLOSE
%d bloggers like this: